بچوں کی کتابیں ہر دور میں تعلیم و تربیت کا بنیادی ذریعہ رہی ہیں۔ کم عمر بچے فطری طور پر جستجو رکھتے ہیں، وہ نئی باتوں کو سیکھنے اور سمجھنے میں بے حد دلچسپی لیتے ہیں۔ ایسے میں اچھی کہانیاں، معلوماتی تحریریں اور رنگین خاکے ان کے ذہن پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ ایک معیاری کتاب نہ صرف ذہنی نشوونما کرتی ہے بلکہ بچے کی شخصیت کو مثبت سمت بھی دیتی ہے۔ جب بچہ کسی کردار سے متاثر ہوتا ہے تو اس کی خصوصیات اپنانے کی کوشش کرتا ہے، جس سے اخلاق، ادب اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔

مطالعہ کی عادت بچپن میں پیدا ہو جائے تو وہ زندگی بھر ساتھ رہتی ہے۔ تحقیق کے مطابق وہ بچے جو بچپن سے کتابیں پڑھتے ہیں، بڑے ہو کر بہتر اعتماد، مضبوط اظہارِ خیال اور وسیع ذہنی افق رکھتے ہیں۔ کتابیں ذہن کو پرسکون بھی کرتی ہیں اور توجہ مرکوز رکھنے میں مدد دیتی ہیں، اس لیے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو مطالعے کی طرف مائل کریں۔

آج کے دور میں جہاں ہر طرف ڈیجیٹل اسکرینوں کا غلبہ ہے، وہاں کتابوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ کتاب کا لمس، اس کی خوشبو اور صفحہ پلٹنے کا احساس بچے کے ذہن کو ایسی خوشگوار دنیا میں لے جاتا ہے جو کسی آلے میں ممکن نہیں۔ اسی لیے والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے لیے ایسی تحریریں منتخب کریں جو تعلیمی، اخلاقی، مذہبی اور تخلیقی پہلوؤں سے بھرپور ہوں۔

آن لائن اسلامی کتب جیسی سہولت نے دینی تعلیم کو نہایت آسان بنا دیا ہے۔ اسلامی کہانیاں بچوں کے دل پر جلد اثر ڈالتی ہیں اور انہیں نرمی، سچائی، عدل اور بھلائی کی طرف مائل کرتی ہیں۔ متعدد معتبر ادارے بچوں کے لیے ایسی تحریریں فراہم کر رہے ہیں جو عقیدے، عبادات، سیرت اور اخلاقی تربیت میں مدد دیتی ہیں۔

منشورات جیسے پلیٹ فارم بھی والدین کو قابلِ اعتماد اور معیاری مواد فراہم کرتے ہیں، جس کی بدولت بچے علم اور کردار دونوں کی مضبوط بنیادیں حاصل کرتے ہیں۔ اگر گھر اور تعلیمی ماحول میں مطالعے کو اہمیت دی جائے تو بچے نہ صرف ذہین اور باشعور بنتے ہیں بلکہ معاشرے کے بہترین فرد کے طور پر پروان چڑھتے ہیں۔